گوجرانوالہ میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ کے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو پاکستانی نوجوانوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے کمبوڈیا منتقل کرتا اور وہاں قیدی بنا کر آن لائن اسکیمنگ کے کام پر مجبور کرتا تھا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ یہ گروہ چھ افراد پر مشتمل تھا، جن میں سے دو ملزمان کمبوڈیا میں مقیم تھے جبکہ باقی چار پاکستان میں رہ کر نوجوانوں کو شکار بناتے تھے۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر کمبوڈیا میں کال سینٹر کی نوکری کے اشتہار دیتے اور سادہ لوح نوجوانوں کو جال میں پھنساتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان عموماً پڑھے لکھے اور کمپیوٹر اسکلز رکھنے والے نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے تھے، کمبوڈیا میں مقیم ملزمان ہر شخص سے 2 ہزار ڈالر وصول کرتے تھے۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کو قیدی بنا کر آن لائن فراڈ اور اسکیمنگ کے کام پر مجبور کیا جاتا تھا، اور کام کرنے سے انکار کرنے والوں پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا۔
حکام کا کہنا تھا کہ اب تک یہ گروہ تقریباً 100 سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈیا بھیج چکا ہے اور اس کے متاثرہ افراد کا حجم بڑھ رہا ہے، تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار شدگان سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔
ایف آئی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آفرز کے حوالے سے محتاط رہیں، اور کسی بھی مشکوک جاب یا بین الاقوامی کال سینٹر کے اشتہار کے سلسلے میں فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔