لبنان کے جنوبی سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ کیمیائی مواد چھڑکنے کے بعد لبنانی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
لبنانی وزیر ماحولیات ڈاکٹر تمارا الزین نے بتایا کہ سرحدی علاقے عیتا الشعب اور نواحی زرعی علاقوں پر مشتبہ کیمیائی مواد اسپرے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی مواد کی نوعیت جاننے کے لیے فوجی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے اور نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مواد زہریلا ثابت ہوا تو حیرت کی بات نہیں ہوگی۔
وزیر ماحولیات نے مزید کہا کہ اسرائیل نے پہلے بھی سفید فاسفورس کے ذریعے جنوبی لبنان کی تقریباً 9 ہزار ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچایا تھا۔ زرعی ماہرین کی ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے مٹی، گھاس اور درختوں کے پتوں کے نمونے جمع کیے ہیں۔ یہ نمونے بیروت اور یونانی لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے بھیجے جائیں گے، اور نتائج 48 گھنٹوں کے اندر متوقع ہیں۔
لبنانی حکام نے کہا کہ اگر کیمیائی مواد کے چھڑکاؤ کی تصدیق ہو گئی تو لبنان بین الاقوامی اداروں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھے گا۔