واشنگٹن: امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے ایک سنگین مقدمے میں وفاقی عدالت نے دو ملزمان کو طویل قید کی سزا سنادی ہے، ایک ملزم کو 80 سال جبکہ دوسرے کو 70 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) اور محکمۂ انصاف نے بچوں کے جنسی استحصال اور چائلڈ پورنوگرافی کے ایک سنگین مقدمے میں دو ملزمان کو سخت سزائیں سنانے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی عدالت نے 44 سالہ وسام شریف کو 80 سال اور 50 سالہ شریک ملزمہ بلیک میلر باراکات کو 70 سال قید کی سزا سنائی ہے، جس کے ساتھ دونوں پر عمر بھر کی نگرانی بھی عائد کی گئی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق وسام شریف اور باراکات نے جون 2025 میں بچوں کے جنسی استحصال اور فحش مواد رکھنے، تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے الزامات قبول کیے تھے۔ عدالت نے ایمی، وکی اینڈ اینڈی ایکٹ کے تحت وسام شریف پر 1 لاکھ 35 ہزار ڈالر اور باراکات پر 30 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق وسام شریف نے مذہب کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شاگرد باراکات کو گمراہ کن نظریہ دیا کہ جنسی لذت کے ذریعے اللّٰہ کے قریب ہوا جا سکتا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اکتوبر 2024 میں دونوں ملزمان نے بالغ فحش مواد دیکھنے اور شیئر کرنے کے بعد ایک 7 سالہ بچے کو ویڈیوز دکھائی اور اسے جنسی حرکات پر مجبور کیا، جس سے چائلڈ پورنوگرافی تیار ہوئی۔
یہ مقدمہ امریکی محکمۂ انصاف کے ملک گیر پروگرام پراجیکٹ سیف چائلڈ ہڈ کے تحت درج کیا گیا، جو بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے تعاون سے چلایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔