لاہور: وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ معاملات کو زیادہ سے زیادہ سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کا مؤقف واضح رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق گزشتہ برس اعلیٰ سطحی وفود افغانستان کا دورہ کرتے رہے اور سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم بدقسمتی سے یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کا فقدان رہا، جبکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو سرحد پار سہولت کاری حاصل ہوتی رہی۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی کے باعث ہمارے سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اسی لیے پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ بھی بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد طالبان حکومت کو مضبوط کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔