اسلام آباد: دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق درج دو مقدمات میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے سماعت کے دوران سنایا۔
ضلع کچہری اسلام آباد میں حقیقی آزادی مارچ کے سلسلے میں درج مقدمات کی سماعت کے موقع پر عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب کو متعدد بار طلب کیا گیا، مگر اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ مسلسل غیر حاضری کو سنجیدہ لیتے ہوئے عدالت نے قانون کے مطابق انہیں اشتہاری قرار دینے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سماعت پر ہی علی امین گنڈا پور کے خلاف اشتہاری کارروائی کا عندیہ دے دیا گیا تھا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب دونوں رہنماؤں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور زرتاج گل سمیت دیگر رہنماؤں کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے جبکہ علی امین گنڈا پور اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق دو مقدمات درج ہیں، جن کی سماعت تاحال جاری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلسل غیر حاضری اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، اور ملزمان کو قانونی عمل کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔