لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے حالیہ مذاکرات کے دوران واضح کیا ہے کہ ان کی اولین ترجیح بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے حقوق کا تحفظ اور انہیں عالمی سطح پر عزت دلانا تھا نہ کہ کسی ذاتی یا قومی مفاد کے حصول کی کوشش۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مذاکرات میں پی سی بی نے صرف بنگلا دیش کے مطالبات کو اجاگر کیا اور دیگر کسی شرط یا مقصد کا تعاقب نہیں کیا، ہمارا واحد مقصد بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ممکنہ ناانصافی کو دور کرنا اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کرانا تھا۔
یہ مذاکرات دو روز قبل لاہور میں منعقد ہوئے، جن میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ مذاکرات میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔ اجلاس کا مرکزی موضوع پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے ممکنہ بائیکاٹ اور بنگلا دیش کے تحفظات تھے۔
مذاکرات کے بعد آئی سی سی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر بنگلا دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، بنگلا دیش کو مستقبل میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی بھی دی جائے گی، جس کے مطابق بی سی بی 2028 سے 2031 کے درمیان کسی ایک عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
بعد ازاں، مذاکرات کے مثبت نتائج اور سری لنکن اور بنگلا دیشی کرکٹ بورڈز کی سفارش کے بعد پاکستان حکومت نے بھی اپنی قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی، جس سے عالمی کرکٹ میں امن و تعاون کا پیغام مضبوط ہوا۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مذاکرات نہ صرف بنگلا دیش کے مفادات کی ضمانت ہیں بلکہ خطے میں کرکٹ کے فروغ اور تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہیں، جو آئندہ آئی سی سی ایونٹس میں شفافیت اور منصفانہ فیصلوں کی راہ ہموار کریں گے۔