اسلام آباد:وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی کی اصل صورتحال کا تعین کسی وکیل نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے، اس لیے ان کے طبی معائنے کے لیے ماہر معالج کو مقرر کر دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کی بہترین مثال یہی ہے کہ ملزم کو طبی معائنے اور علاج کی مکمل سہولت دی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے مؤکل کی میڈیکل رپورٹ پیش کریں، آنکھوں کی حالت کا حتمی فیصلہ طبی ماہرین کریں گے کیونکہ یہ ایک پیشہ ورانہ معاملہ ہے، حکومت نے اس سلسلے میں ڈاکٹر کو بھجوا دیا ہے تاکہ غیر جانبدار طبی رائے سامنے آ سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے پہلے کیے گئے بیانات کی تصدیق ہو رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، پی ٹی آئی اب ہمدردی حاصل کرنے کے لیے صحت کے معاملے کو سیاسی ایشو بنا رہی ہے کیونکہ 8 فروری کے احتجاج میں ناکامی کے بعد ان کے پاس کوئی اور سیاسی حکمت عملی باقی نہیں رہی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت سیاسی اختلاف رکھتی ہے مگر ذاتی دشمنی نہیں، اس لیے بانی پی ٹی آئی کو وہ تمام حقوق دیے جا رہے ہیں جو قانون کے تحت ہر قیدی کو حاصل ہوتے ہیں، میڈیکل رپورٹ کے بعض حصے ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں جیل میں معیاری خوراک اور سہولتیں میسر ہیں، حتیٰ کہ ان کا مینو عام شہریوں سے بہتر ہے اور وہ معروف برانڈز کا منرل واٹر استعمال کرتے ہیں۔
طلال چوہدری نے زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور حکومت اس اصول پر عمل پیرا ہے، اسی لیے بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے سمیت تمام قانونی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔