وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا خواب دیکھا گیا تھا، جبکہ بنگلادیش اور بھارت ترقی کے میدان میں آگے نکل گئے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے رویوں میں یکسانیت ہونی چاہیے اور عدالتی فیصلوں پر سوالات اسی وقت اٹھتے ہیں جب مختلف معاملات میں مختلف طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے اور قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور اڈیالا جیل میں قید بھی رکھا گیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، بصورت دیگر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔