امیر مقام، وفاقی وزیر امور کشمیر، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سوات سے اسلام آباد آ رہے تھے تو راستے میں بچوں، خواتین اور مریضوں کو مشکلات میں گھرا دیکھا جو سڑکوں کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو فوری طور پر مؤثر اقدام کرنا چاہیے کیونکہ عام شہریوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق موٹروے کی بندش سے مسافروں کو غیر معمولی تکالیف برداشت کرنا پڑ رہی ہیں، متعدد افراد کی پروازیں مس ہو رہی ہیں جبکہ مریض بروقت اسپتال نہیں پہنچ پا رہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ آئی جی خیبرپختونخوا ایسے عناصر کے خلاف مقدمات درج کریں جو عوام کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر کسی قیدی کا معاملہ ہے تو اسے عدالتوں میں لڑا جائے، عام شہریوں کو کیوں سزا دی جا رہی ہے۔