اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کے نوٹس لینے کے بعد نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے موجودہ سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے سے متعلق ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پرانے صارفین کو سابقہ نرخ اور طریقہ کار کے مطابق سہولت حاصل رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے سے نصب سولر سسٹم رکھنے والے صارفین کے معاہدے اپنی مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے اور ان کے لیے یونٹ کے بدلے یونٹ بجلی کے تبادلے کا نظام جاری رہے گا۔ اتھارٹی نے اس مسودے پر 30 روز کے لیے عوامی آراء بھی طلب کر لی ہیں تاکہ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ نیپرا نے 9 فروری کو سولر ریگولیشنز 2026 جاری کیے تھے، جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے تھے۔ اس صورتحال پر وزیر اعظم نے نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ موجودہ سولر صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جس کے بعد نظرثانی درخواست اتھارٹی میں جمع کرائی گئی۔
ترمیمی مسودے کے مطابق نئے سولر صارفین کے لیے متعارف کرائی گئی ترامیم بدستور مؤثر رہیں گی۔ نئے صارفین اگر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کریں گے تو انہیں فی یونٹ 8 روپے 13 پیسے ادائیگی کی جائے گی، جو سابقہ نرخوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔