ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان معاشی بہتری کی راہ پر، مکمل استحکام میں وقت لگے گا،  صدر زرداری

وہاڑی: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک بتدریج بہتری کی سمت گامزن ہے تاہم مکمل استحکام کے لیے صبر اور تسلسل ناگزیر ہے۔

عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی حالات، معاشی چیلنجز اور زرعی شعبے کی اہمیت پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ قومی تعمیر کا عمل مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے ۔ مشکلات سیاسی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کا اصل امتحان مشکلات میں ثابت قدم رہنا ہے، محض تقاریر سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

انہوں نے اپنی قید و بند کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل اسیری کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور ذاتی تکالیف کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیاست کے میدان میں آتا ہے تو اسے ہر طرح کے دباؤ اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صدر نے واضح کیا کہ ملکی ترقی کا دارومدار زرعی شعبے کی مضبوطی پر ہے کیونکہ معیشت کی بنیاد کسان ہیں۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں کو سہولیات کی فراہمی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں احساس محرومی موجود ہے جسے دور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سیاسی ہم آہنگی کو انتہا پسندی کے سدباب کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ ملک کسی بھی قسم کی جمود کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ چند سال کی رکاوٹ دہائیوں کی پسپائی کا سبب بن سکتی ہے۔

عدالتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ججز کی تنخواہوں میں اضافہ بھی ادارہ جاتی استحکام کے لیے کیا گیا۔

خطاب کے اختتام پر صدر نے دوٹوک اعلان کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، اس کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹمی پروگرام کے فیصلے کو قومی سلامتی کے تناظر میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی قیادت کو مضبوط اور بالغ نظر ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں رہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں