16 فروری کو United States Air Force کی جانب سے ایک بڑا فضائی آپریشن کیا گیا جس کے تحت مزید 18 جدید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچائے گئے، جبکہ درجنوں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی تعینات کیے گئے۔ یوں خطے میں امریکی فضائی طاقت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پہلے سے موجود بحری اور فضائی اثاثوں کے ساتھ اب خطے میں امریکی جنگی صلاحیت نمایاں طور پر مجتمع ہو چکی ہے۔ United States Navy کے جنگی جہاز، آبدوزیں اور ڈسٹرائرز بھی خطے میں سرگرم ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی عسکری تیاری عام مشقوں سے کہیں بڑھ کر دکھائی دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہدف کیا ہے؟
خطے کی کشیدہ صورتحال، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ، اس غیر معمولی عسکری سرگرمی کو مزید معنی خیز بنا رہی ہے۔ امریکی سیاسی قیادت کے بیانات بھی اس تناظر میں خاصے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے بااثر سینیٹر لنڈسے گراہم اچانک تل ابیب پہنچے جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران سے متعلق حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعض بیانات میں ایرانی حکومت کے مستقبل سے متعلق سخت مؤقف بھی سامنے آیا، جس نے سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز کر دی ہیں۔
اسی دوران نریندر مودی کا آئندہ دنوں میں اسرائیل کا سرکاری دورہ بھی طے ہے، جس میں بھارت کی جانب سے اسرائیل کو سفارتی اور تزویراتی حمایت کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے سفارتی بلاک کی تشکیل کا عندیہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر امریکی افواج کی یہ تعیناتی محض دفاعی نوعیت کی ہوتی تو شاید اس قدر توجہ حاصل نہ کرتی، مگر بحری بیڑوں، فضائی اثاثوں اور سیاسی بیانات کی ہم آہنگی کسی بڑے جیو اسٹریٹجک فیصلے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
کیا یہ دباؤ کی حکمتِ عملی ہے؟
کیا کسی ممکنہ کارروائی کی تیاری ہو رہی ہے؟
یا پھر یہ سب محض طاقت کا مظاہرہ ہے؟
فی الحال عالمی نظریں امریکہ کی آئندہ حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی بساط پر جمی ہوئی ہیں۔ آنے والے ہفتے طے کریں گے کہ یہ عسکری اجتماع صرف پیغام تھا یا کسی بڑے باب کا پیش خیمہ