خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے اچانک 2 تھانوں پر حملہ کردیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب کیا گیا، جس کے دوران شدید فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد نے پہلے آس پاس موجود نہتے شہریوں کو ہراساں کیا اور اس کے بعد گھات لگا کر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔
صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کی کوئیک رسپانس ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور پسپا ہوگئے۔
حملوں میں تھانہ یارک اور کسٹم تھانہ کو نشانہ بنایا گیا۔ تھانہ یارک پر فائرنگ کے دوران کانسٹیبل بلال جام شہادت نوش کر گئے جبکہ 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ اسی طرح کسٹم تھانے پر حملے میں کانسٹیبل محمد اسرار شہید اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ حملہ آوروں نے افراتفری کے دوران ایک کانسٹیبل زبیر کو اغوا بھی کر لیا، جس کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد پورے شہر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ بھاری نفری تعینات کر کے داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی جبکہ مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورت حال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔