لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کی اپنی فضائی سروس شروع کرنے کا منصوبہ تیز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پنجاب ایئر لائن کی پہلی پرواز آئندہ اپریل میں شروع کی جائے گی، جس کے لیے ابتدائی مرحلے میں سات طیارے حاصل کیے جا رہے ہیں، یہ ایئر لائن صوبے کی ملکیتی فضائی کمپنی ہوگی اور اس کا مقصد مقامی سطح پر فضائی سفر کو بہتر اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں ابتدائی دو برس تک صرف اندرونِ ملک پروازیں چلائی جائیں گی تاکہ آپریشنل نظام، روٹس اور سروس معیار کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے لیے ریگولیٹری منظوریوں اور آپریشنل تیاریوں پر کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ سرکاری ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ایئر لائن کے فلیٹ میں شامل کر دیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے اسی ایئر لائن کے جہاز استعمال کریں گی اور اس مقصد کے لیے الگ خصوصی طیارہ نہیں خریدا جائے گا، وزیراعلیٰ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے جہاز کا باقاعدہ کرایہ ادا کیا جائے گا تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت برقرار رہے۔
مزید بتایا گیا کہ حکومت نے قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنے کی پالیسی اپنائی ہے اور موجودہ و نئے جہازوں کو مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر چلایا جائے گا تاکہ ایئر لائن خود کفیل ہو سکے، فلیٹ میں شامل طیارے مسافروں اور سرکاری استعمال دونوں کے لیے دستیاب ہوں گے، ترجیح کمرشل آپریشن اور آمدنی کے حصول کو دی جائے گی۔