رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 1.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 4.26 فیصد سے بڑھ کر 5.19 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ہفتے 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 12 اشیا سستی ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق چکن کی قیمت میں 6.34 فیصد اضافہ ہوا جو رمضان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیا میں شامل ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 3.82 فیصد، لہسن 5.86 فیصد، پیاز 3.83 فیصد، مٹن 0.69 فیصد اور بیف 1.03 فیصد مہنگا ہوا۔
اسی طرح ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا جہاں پٹرول 1.93 فیصد، ڈیزل 2.69 فیصد اور ایل پی جی 0.75 فیصد مہنگی ہوئی۔ کیلوں کی قیمت میں 16 فیصد سے زائد اضافہ بھی صارفین کے لیے حیران کن رہا۔
دوسری جانب چند اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ انڈے 11.78 فیصد سستے ہوئے جبکہ آٹے کی قیمت میں 2.02 فیصد کمی آئی۔ چینی، دالوں اور بعض خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی جزوی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی رجحان مہنگائی میں اضافے کا رہا۔
حساس قیمتوں کے اعشاریے کے مطابق کم آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کا بوجھ زیادہ پڑا ہے۔ 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار 5.50 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درمیانی آمدنی والے طبقات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق رمضان کے دوران طلب میں اضافے اور سپلائی چین کے مسائل قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر قابو نہ پایا گیا تو رمضان کے آئندہ ہفتوں میں مزید دباؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہی ہے کہ اشیائے خورونوش کی دستیابی کو یقینی بنا کر قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔