تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ مائی میں واقع نجی جنگلی حیات کے پارک “ٹائیگر کنگڈم” میں مہلک وائرس اور بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے نتیجے میں 10 دن کے اندر 72 شیر ہلاک ہو گئے، جس نے مقامی اور عالمی ماہرینِ حیوانات میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے ٹائیگرز کی لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس میں کینائن ڈسٹیمپر وائرس اور سانس کے نظام کو متاثر کرنے والے بیکٹیریا کی موجودگی ثابت ہوئی ہے، جو جانوروں کی قوتِ مدافعت پر شدید اثر ڈالنے کے باعث موت کا سبب بنے۔
قومی محکمۂ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ٹائیگرز میں بیماری کی ابتدائی علامات کا بروقت پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اکثر کیسز میں جب بیماری کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے تو جانوروں کو بچانا ممکن نہیں رہتا۔
پارک انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ مؤقف جاری نہیں کیا، جس سے مقامی حکام اور ماہرین کے درمیان مزید تحقیقات کی ضرورت سامنے آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے جنگلی حیات کی دیکھ بھال میں پیشہ ورانہ اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ان میں دیرینہ بیماریوں کی نگرانی اور ویکسینیشن کا نظام لازمی ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ نہ صرف تھائی لینڈ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے امور کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر نجی جنگلی پارکوں میں حیوانات کی صحت و حفاظت کے لیے موثر حکمت عملی اور فوری ردِ عمل کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔