منصورہ: جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملکی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شریف اور زرداری خاندان پر مضبوط گرفت قائم کر رکھی ہے اور یہ سب مل کر پاکستان کے وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کے دوران امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ انتخابی اور پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے، فارم 47 کے ذریعے جنہیں آپ پارلیمنٹ میں لاتے ہیں، وہ ووٹ حاصل نہیں کر پاتے اور ان میں کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، آپ کا ہائبرڈ نظام فیل ہو چکا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے ملکی اقتصادی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ صرف 10 ارب روپے میں قومی ایئر لائن پی آئی اے فروخت کر دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ کے لیے نیا طیارہ 11 ارب میں خریدا گیا، پاکستان اشتہاروں میں ترقی کر رہا ہے، لیکن گزشتہ چھ برس میں غربت میں 31.5 فیصد اضافہ ہوا اور قوم کے ٹیکس کے پیسے حکمرانوں کی تشہیر پر ضائع ہو رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے زرعی شعبے کی خراب صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کسانوں کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، حکومت نے کسانوں سے گندم 1800 روپے فی من خریدی جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت 6 ہزار روپے رہی، درمیان میں جو تین سے چار ہزار روپے کا فرق ہے وہ کس کے پاس جا رہا ہے؟
بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے حافظ نعیم نے کہا کہ نہ تو پارلیمنٹ سے مشورہ لیا گیا اور نہ ہی کابینہ میں کوئی بات ہوئی، بورڈ آف پیس میں غزہ کی تباہی کا ذمہ دار حماس قرار دیا گیا اور پاکستان کی فوج کے ممکنہ کردار پر کوئی شفاف فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کو ناقابلِ قبول ہے، غزہ میں کسی بھی صورت میں پاکستان کی فوج کو نہیں بھیجنا چاہیے اور اگر ہماری افواج کو امریکہ کی کمانڈ میں بھیجا گیا تو کیا وہ وہاں احتجاج کر پائیں گے؟”
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے خلاف 25 کروڑ عوام کو ساتھ ملا کر مزاحمت کرے گی اور ملکی مفاد میں ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔