اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں افغانستان میں کی گئی حالیہ فضائی کارروائی پر حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بارہا سرحد پار دراندازی کے شواہد افغان حکام کے سامنے رکھے، مگر وہاں سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام اچانک نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل پس منظر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان حکومت کو متعدد بار شواہد فراہم کیے گئے اور سرحدی علاقوں سے پاکستان میں داخل ہونے والے عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ان کے بقول افغان حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ اگر مالی معاونت فراہم کی جائے تو ان عناصر کو سرحد سے دور منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے حملوں کے روابط افغانستان سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف جانی نقصان اٹھانے کے لیے نہیں بیٹھا اور ضرورت پڑنے پر مؤثر جواب دینا جانتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور اس بارے میں ٹھوس شواہد افغان حکام کے ساتھ بھی شیئر کیے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دہشت گردی اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے، مگر اس کے باوجود افغان حکام کی جانب سے مؤثر اقدام سامنے نہیں آیا۔