رپورٹ: قمر یوسفزئی
پاکستان کا آپریشن غضب الحق افغان طالبان کے پاکستانی سرحدوں پر حملوں کے جواب میں پوری طاقت سے جاری ہے اور طالبان کے اندازوں سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے ۔
اس آپریشن کے دوران اندازاً 60 سے 80 طالبان جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ متعدد طالبان سرحدی چوکیاں، کمانڈ پوائنٹس اور اسلحہ کے ذخائر تباہ کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان ایئر فورس نے سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر بھی گہرائی تک درست نشانے والے فضائی حملے کیے ہیں، جن میں کابل، قندھار، ننگرہار، خوست اور پکتیا صوبوں میں طالبان کے ٹھکانوں اور سپلائی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ پاکستان کے میزائل بردار ڈرونز بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
جانی نقصانات کے علاوہ طالبان کے آرمرڈ اثاثوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے، جن میں کئی ٹینک تباہ، متعدد آرمرڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سیز) ناکارہ، اور دیگر فوجی گاڑیاں فضائی اور زمینی حملوں کے دوران تباہ کر دی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 36 کے قریب روسی ساختہ T 54 اور T 55 سمیت T 62 ٹینک ، امریکی ساختہ 6 عدد اے پی سی ایم 114 اور 6 عدد روسی ساختہ BM 21 گراڈ ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم تباہ کردیے گئے ہیں ۔
جبکہ 12 عدد براؤننگ مشین گنز سے لیس امریکی آرمرڈ گاڑیاں Humvees بھی راکھ کا ڈھیر بنادی گئی ہیں ۔ ان کے علاوہ طالبان کی 8 عدد ڈی 30 توپیں بھی پاکستانی حملوں میں تباہ ہوگئی ہیں.
سکیورٹی ذرائع کے مطابق موثر جوابی حملوں میں 58 افغان طالبان مارے گئے جبکہ،100سے زائد زخمی،12پوسٹیں مکمل تباہ اور 5افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا،
ایک بڑا ایمونیشن ڈپو، 3افغانی بٹالین اورسیکٹرہیڈکوارٹرمکمل طور پر تباہ کردیئے گئے،