ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے نئے ترجمان کی تقرری کر دی

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی جانب سے تنظیمی سطح پر اہم تبدیلی کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کو نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد میڈیا اور عسکری ترجمانی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ادارے کو اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق  بریگیڈیئر جنرل حسین محبی اس منصب پر علی محمد نائینی کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو گزشتہ ماہ ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ نائینی طویل عرصے تک پاسدارانِ انقلاب کے میڈیا رابطوں کے مرکزی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور ادارے کی ترجمانی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تقرری باضابطہ طور پر ایک حکم نامے کے ذریعے عمل میں آئی، جس پر پاسدارانِ انقلاب میں سپریم لیڈر کے نمائندے عبداللہ حاجی صادقی کے دستخط موجود ہیں۔ اس اقدام کو ادارے کے اندر تسلسل برقرار رکھنے اور ترجمانی کے نظام کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اہم سیکیورٹی عہدوں میں رد و بدل کرتے ہوئے محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا، تاہم اس فیصلے کو بعض بااثر عسکری حلقوں کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جن میں نئے عسکری سربراہ احمد وحیدی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت ایران کے اندرونی طاقت کے توازن اور عسکری و سیاسی قیادت کے درمیان اثر و رسوخ کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ تقرریاں نہ صرف ادارہ جاتی تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاسدارانِ انقلاب اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے کی سمت پیش قدمی کر رہے ہیں، جبکہ قیادت کے مختلف مراکز کے درمیان ہم آہنگی اور اختیارات کی تقسیم ایک اہم بحث کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں