ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بمباری اور فوجی کارروائیوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ امریکا اپنے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے بلکہ بعض معاملات میں ان سے آگے بھی بڑھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن کے ایک واضح معاہدے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے، جسے وہ مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر متنازع امور پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دو ہفتوں کا وقت درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے صدر اور خطے کے دیگر ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ اب حل کے قریب پہنچ چکا ہے۔