ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کی امریکی خاتون صحافی کو قتل کی دھمکیاں

نیویارک:غزہ میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے واقعات بتانے پر اسرائیلی حکام کے امریکی خاتون صحافی کو قتل کی دھمکیاں۔

امریکی صحافی اینا کیسپرین نے کہا ہے کہ مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا۔انہوں نے کہا ہے کہ میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔

میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکامیں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔

کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔

درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔

میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔

اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔

وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔

اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔

 بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں