امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی پر اتفاق کے بعد عالمی سطح پر اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک بار پھر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے، جسے خطے میں معمول کی جانب واپسی کی ابتدائی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
میری ٹائم نگرانی کے ادارے میرین ٹریفک کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز سے کم از کم 2 تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی، جو یونان اور لائبیریا کے پرچم بردار ہیں۔
دوسری جانب سیاسی و سفارتی سطح پر بھی پیش رفت کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بوداپست میں ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے صورتحال میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور امریکا و اس کے اتحادیوں نے حملوں کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے بجائے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے اندر بھی اس جنگ بندی پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں کچھ حلقے اسے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض عناصر اس حوالے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں اور امریکی مذاکراتی ٹیم کو ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی ہے، اور انتظامیہ اس معاملے میں تیزی سے پیش رفت چاہتی ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر جنگ بندی کے بعد بحری راستوں کی بحالی اور سفارتی بیانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ فریقین کشیدگی کو کم کرنے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق صورتحال اب بھی حساس ہے اور کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔