ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لبنان جنگ بندی کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق سخت حفاظتی پالیسی کا نفاذ

تہران: ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی اور سخت شرائط کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اب اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے خصوصی اجازت نامہ لازمی ہوگا۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی تجارتی بحری جہاز کو اجازت کے بغیر سفر کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ صرف سویلین کارگو جہازوں کو ہی مخصوص راستوں سے گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد خطے میں امن اور میدان جنگ میں خاموشی کے معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط آبنائے ہرمز کی نگرانی اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے سخت تنبیہ کی ہے کہ اگر کوئی بھی فوجی جہاز ان حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ ایسی کسی بھی جارحیت پر ایرانی فورسز کی جانب سے فوری اور انتہائی سخت ردعمل دیا جائے گا۔

قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خیرمقدم کرتے ہوئے اظہار تشکر کیا تھا، تاہم پاسداران انقلاب کی جانب سے سامنے آنے والی ان نئی شرائط نے عالمی سمندری تجارت کے لیے صورتحال تبدیل کر دی ہے۔

ایران نے تمام شپنگ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل ایرانی حکام سے رابطہ قائم کریں اور صرف پہلے سے متعین کردہ آبی راستوں کا انتخاب کریں۔  ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اس نئی پیشرفت کے بعد عالمی برادری اور خطے کے ممالک ان شرائط کے اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران کا یہ مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں اور ان پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں