اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت ریڈ زون میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے، یہ اقدامات حساس نوعیت کے مذاکرات کے باعث کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خدشے سے نمٹا جا سکے۔
جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ریڈ زون میں قائم تمام سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی اداروں کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ اکیس اپریل کے روز اس علاقے میں تمام سرگرمیاں محدود رکھی جائیں گی، صرف انتہائی ضروری افراد کو مخصوص اجازت کے تحت داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ریڈ زون کا رخ نہ کریں اور متبادل راستے استعمال کریں تاکہ سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ متعلقہ اداروں کو آن لائن نظام کے ذریعے اپنے امور جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ سرکاری کام متاثر نہ ہوں۔
ذرائع کے مطابق یہ سخت اقدامات ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے باعث کیے گئے ہیں، جن میں خطے کی موجودہ صورتحال، سیکیورٹی امور اور دیگر اہم معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد کو اس اہم سفارتی سرگرمی کے لیے مرکزی مقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے ریڈ زون اور اس کے اطراف میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کو بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔