اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری اقدامات اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے جاری منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے،موجودہ علاقائی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر برقی گاڑیوں کا فروغ نہایت اہم ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے ذخائر کے مؤثر استعمال میں بھی مدد ملے گی۔
وزیرِ اعظم نے قومی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کو فراہم کی جانے والی برقی موٹر سائیکلوں کی سبسڈی میں شفافیت یقینی بنانے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات جاری ہیں، برقی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی تیاری کے لیے بہتر سے زائد جبکہ برقی گاڑیوں کے لیے چار پیداواری اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ برقی گاڑیوں کے چارجنگ مراکز کے قیام کے لیے اب تک ایک سو تئیس درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جو اس شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مظہر ہیں، آئندہ پانچ برسوں میں ملک کی تیس فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس سے اندازاً ساڑھے چار ارب ڈالر تک ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔
اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ گریڈ سولہ تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر برقی موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کی اسکیم پر کام جاری ہے، جس سے عام ملازمین کو سستی اور ماحول دوست سواری میسر آ سکے گی۔