واشنگٹن: آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط کی منظوری متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت دونوں فریقین کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ تمام تر شرائط کو پہلے ہی پورا کر دیا ہے جس کے بعد اب بورڈ کی جانب سے باضابطہ منظوری باقی ہے۔ اس اجلاس میں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تیسرے جائزے اور موسمیاتی تبدیلی پروگرام کا دوسرا جائزہ بھی شامل ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی مقررہ ہدف سے تجاوز کر کے 1468 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت اب لیوی میں مزید اضافے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ مالی اہداف کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے اور معیشت مستحکم رہے۔
آئی ایم ایف نے حکومتی سطح پر دی جانے والی تمام تر سبسڈیز کو فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور افراطِ زر کی شرح میں بتدریج کمی کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے باعث ملکی معیشت کو بدستور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ معاشی استحکام کا سفر جاری رہے۔
ملک کے معاشی ماہرین اس منظوری کو پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسط کے ملنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑے گا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔