اسلام آباد:صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے آئل ٹینکر پر حملے کے بعد یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت پاکستان نے فوری سفارتی اقدامات شروع کر دیے ہیں جبکہ واقعے نے سمندری سیکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے صومالیہ کے سفیر کو باضابطہ خط لکھ کر آئل ٹینکر پر سوار پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے، مذکورہ جہاز آنر 25 پر موجود عملے میں شامل 11 پاکستانی شہریوں کو بحری قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
وفاقی وزیر نے اپنے خط میں پاکستانی عملے کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے صومالی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں اور فوری کارروائی عمل میں لائیں۔
دوسری جانب وزارت خارجہ صومالیہ نے پاکستان کی جانب سے خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جہاز اور عملے سے متعلق تمام معلومات متعلقہ قومی سلامتی اداروں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
صومالی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق ہر نئی پیش رفت سے پاکستان کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا جبکہ یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔