اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد صوبے میں سی این جی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اس حوالے سے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ سی این جی کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رابطے کے بعد مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ چھوٹے کاروبار اور ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ ملک میں اس وقت گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث اضافی گیس فراہم کرنا ممکن نہیں، اگر مستقبل میں ایل این جی کی درآمد کے بعد صورتحال بہتر ہوتی ہے تو اضافی گیس کی فراہمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان اس معاملے پر رابطہ جاری رہے گا تاہم فوری طور پر کوئی ریلیف دینے کی گنجائش موجود نہیں، گیس بحران کے باعث آنے والے دنوں میں سی این جی سیکٹر مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر عوامی ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات پر پڑے گا۔