ویانا: عالمی تیل منڈی سے متعلق اہم تنظیم اوپیک پلس کے سات رکن ممالک آج ایک اہم اجلاس کر رہے ہیں، جس میں عالمی طلب اور رسد کو متوازن رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار کے نئے اہداف طے کیے جائیں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی تنظیم سے علیحدگی کی خبروں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر اوپیک اور اوپیک پلس دونوں سے علیحدگی اختیار کر لی،یہ فیصلہ مبینہ طور پر اس وجہ سے کیا گیا کہ امارات گروپ کی جانب سے عائد کردہ پیداوار کی حدود سے مطمئن نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اجلاس میں شریک سات ممالک یومیہ تیل کی پیداوار میں تقریباً 188,000 بیرل اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں سپلائی کو مستحکم رکھنا اور قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیداوار میں اضافہ کیا گیا تو اس کے عالمی تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ طلب اور رسد کے توازن میں بھی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔