کوئٹہ:بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت کی مناسبت سے اتوار کو صحافیوں نے مظاہرہ کیا۔
پریس کلب کے باہر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام مظاہرے میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔
بی بی سی کے مطابق مظاہرے کے شرکا نے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان میں پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحافی سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں صحافیوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔
مقررین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مارشل لاءحکومتوں کے مقابلے میں جمہوریت کی دعویدار حکومت میں صحافت پر زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ جیسے کالا قانون نافذ کرکے آزادی صحافت کے گرد شکنجے کو مزید کس لیا گیا۔
مظاہرے کے شرکاءنے مطالبہ کیا کہ آزادی صحافت پر پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کوئٹہ میں ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز کو بند نہ کیا جائے اور جن ٹی وی چینلز کے دفاتر بند کیے گئے ہیں ان کو فوری طور پر کھولا جائے۔
مظاہرے کے شرکاءنے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے روزگار کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ان کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بنائی جائے۔