راولپنڈی میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تمباکو مصنوعات خصوصاً سگریٹ پر عائد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافے کی سفارش پیش کر دی ہے۔
تنظیم کی جانب سے دی گئی تجاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہ صرف صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کو بھی خاطر خواہ مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مجوزہ اضافہ نافذ ہونے کی صورت میں قومی آمدنی میں تقریباً 51 ارب روپے تک اضافی رقم شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سپارک کی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کم قیمت سگریٹ کے پیکٹ پر کم از کم 35 روپے جبکہ مہنگے سگریٹ کے پیکٹ پر 21 روپے تک اضافی ٹیکس عائد کیا جائے۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں موجود مختلف درجات کے فرق کو کم کرتے ہوئے بتدریج ایک یکساں ٹیکس نظام کی طرف پیش رفت کی جائے تاکہ ان مصنوعات کی دستیابی اور استعمال کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
ماہرینِ صحت اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو اس کے دوہرا فائدہ سامنے آ سکتا ہے۔ ایک جانب حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسری جانب تمباکو نوشی کے رجحان میں کمی کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس اقدام سے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روکا جا سکتا ہے، جبکہ موجودہ صارفین میں سے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار افراد کے اس عادت کو ترک کرنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔