کراچی: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عالمی حالات کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جبکہ عام آدمی اپنی کمائی سے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔
کراچی پریس کلب کے پروگرام “میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے اور حکمران عوامی مسائل، امن و امان اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدامنی عروج پر ہے، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، کہیں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں بزورِ شمشیر شریعت نافذ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، جبکہ دیہی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران طبقات نہ امن و امان کے قیام میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی عوامی معاشی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، ماضی کے مارشل لا ادوار نے ملک کو نقصان پہنچایا اور آئین میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، ان کی جماعت جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کے مسلسل سمجھوتوں کے باعث جمہوریت کمزور ہوئی، اس وقت نہ کسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو رہا ہے اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات جاری ہیں۔