وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات کے حوالے سے مجوزہ 28ویں ترمیم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک تمام سیاسی فریقین کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے حاصل نہ ہو جائے، اور یہ عمل کسی بھی مرحلے پر مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک آئندہ 10 سے 15 دن کے دوران اس معاملے پر اتفاقِ رائے کے امکانات کم ہیں اور اگر یہ اتفاق کسی مرحلے پر سال کے دوران بھی ہو گیا تو اسی وقت آئینی ترمیم کو آگے بڑھایا جائے گا، ترمیم کے فوری طور پر، بالخصوص بجٹ سے قبل، پیش کیے جانے کا کوئی امکان موجود نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل مشاورت کے بغیر اس نوعیت کی آئینی تبدیلی آگے نہیں بڑھائے گی، کیونکہ اس کے لیے وسیع سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے لیے بغیر آئینی عمل کو آگے لے جانا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ ترمیم کے مختلف پہلو زیر غور ہیں جن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ٹیکس نیٹ اور قومی مالیاتی کمیشن کے دائرہ کار میں لانے سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں، ان علاقوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ انہیں مالیاتی نظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔
وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو محض گرانٹس پر انحصار میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کا حصہ ہیں، اور ان خطوں کی ترقی کے لیے انہیں قومی مالیاتی ڈھانچے میں مناسب مقام دیا جانا چاہیے۔
ووٹرز کی عمر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے، تاہم یہ فی الحال حکومت کا باضابطہ ایجنڈا نہیں ہے بلکہ ایک عمومی بحث ہے، نوجوانوں کے حوالے سے مختلف سماجی پہلوؤں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے، خاص طور پر منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے اثرات کے تناظر میں۔