تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Ismail Baghaei نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ایک فریم ورک پر پیشرفت ہوئی ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت جوہری معاملے پر براہِ راست بات چیت نہیں کر رہا، البتہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق بعض نکات پر پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی مکمل معاہدے کی سطح تک بات نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیر غور 14 نکاتی مجوزہ ایم او یو میں جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا “ٹول” نہیں لیا جائے گا، تاہم سروس چارجز جیسی فیس بین الاقوامی معمول کا حصہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدے میں لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا پہلو بھی شامل ہو سکتا ہے، لیکن اس وقت کوئی بھی نتیجہ حتمی نہیں۔