پیرس: پاکستانی نژاد فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی نے اپنے خلاف جیل جانے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی اور فرانسیسی میڈیا میں چلنے والی رپورٹس جھوٹی، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں محمود بھٹی نے کہا کہ انہیں جیل نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی وہ اس وقت کسی قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں، میڈیا میں ان کے خلاف غلط تاثر پیش کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے محمود بھٹی پر ایک لاکھ پچاس ہزار یورو جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ انہیں 10 سال تک کسی بھی کمپنی کے انتظامی امور چلانے سے روک دیا گیا ہے، عدالتی فیصلے میں محمود بھٹی کی تین لگژری گھڑیاں اور تین جیگوار گاڑیاں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2009 سے 2012 کے دوران ٹیکس فراڈ جبکہ 2009 سے 2014 تک منی لانڈرنگ کے الزامات عدالت میں ثابت ہوئے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کے ذریعے قرضوں کے نظام سے اپنی پرتعیش زندگی کو فنڈ کرتے رہے۔
لی مونڈ کے مطابق اپیل کے دوران محمود بھٹی نے الزامات تسلیم کرتے ہوئے کم سزا پر رضامندی ظاہر کی تھی، وہ اس سے قبل 2001 میں مالی فراڈ کے ایک اور کیس میں بھی زیرِ تفتیش رہ چکے ہیں۔
دوسری جانب محمود بھٹی نے ان تمام خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں جیل بھیجے جانے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔