ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جائیداد ٹیکس میں نرمی پر آئی ایم ایف سے مذاکرات، رئیل اسٹیٹ کیلیے بڑی پیشرفت متوقع

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رئیل اسٹیٹ سیکٹر مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ممکنہ سرمایہ کاری کو ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 236C اور 236K کے تحت عائد ٹیکس شرحوں میں نرمی کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم حکام کے مطابق مذاکرات انتہائی سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس معاملے پر عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران ممبر لینڈ ریونیو پالیسی ایف بی آر سجاد نے واضح کیا کہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس شرح کم کروانے کا اختیار اب مکمل طور پر ایف بی آر کے پاس نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف اس معاملے میں سخت شرائط پر قائم ہے اور ٹیکسوں میں کمی کے لیے حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں خلیجی خطے کی حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سرمایہ اور آمدن پاکستان منتقل کیے جانے کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسوں میں نرمی کرتی ہے تو اس سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔

اجلاس کے دوران ماہر معاشیات علی سلمان نے معیشت کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی اور گیس کے شعبوں کا گردشی قرضہ خطرناک حد تک بڑھ کر 5.1 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔  اس میں 3.3 کھرب روپے گیس سیکٹر جبکہ 1.8 کھرب روپے بجلی کے شعبے کے ذمے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ بھی بڑھ کر 137.56 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف دینے کی کوششیں معیشت میں نئی سرگرمی پیدا کر سکتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف کی شرائط اور مالیاتی دباؤ مستقبل کے بجٹ کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں