پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرکے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے، جس کے بعد جنوبی کوریا اور امریکا نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ میزائل شمالی کوریا کے مغربی ساحلی شہر جونگجو سے داغا گیا اور اس نے تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل تجربے کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا نے دیگر اقسام کے پروجیکٹائل بھی فائر کیے، تاہم ان کی نوعیت اور تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
جنوبی کورین فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان گزشتہ چند برسوں سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جوہری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیانگ یانگ نے ہتھیاروں کی تیاری اور تجربات میں مزید تیزی پیدا کردی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا بار بار میزائل تجربات کے ذریعے نہ صرف اپنی عسکری طاقت کا اظہار کر رہا ہے بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا اور جاپان سمیت خطے کے دیگر ممالک ان تجربات کو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی ایشیا پہلے ہی سیکیورٹی خدشات اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے اپنی عسکری سرگرمیاں اسی رفتار سے جاری رکھیں تو خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ مزید بڑھ سکتا ہے۔