اقوام متحدہ نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو جنسی تشدد سے متعلق سنگین الزامات کے باعث بلیک لسٹ میں شامل کرلیا، جبکہ روسی سکیورٹی اداروں کو بھی اسی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔ عالمی ادارے کے اس اقدام نے بین الاقوامی سطح پر نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف جنسی تشدد کے متعدد واقعات اور الزامات سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ متاثرین کے بیانات اور مختلف تحقیقات کی روشنی میں معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ناانصافی اور شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کے اس فیصلے نے اسرائیل اور حماس کو ایک ہی سطح پر لا کھڑا کیا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
اسرائیلی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائیاں کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کیا گیا طرزعمل سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عالمی ادارہ حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ رویہ اپنا رہا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے روسی سکیورٹی فورسز کو بھی اسی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ روسی فورسز کے خلاف بھی ایسے واقعات سے متعلق شکایات اور رپورٹس موصول ہوئی تھیں جنہیں تحقیقات کے بعد فہرست کا حصہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے گزشتہ سال اگست میں اسرائیل اور روس دونوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنسی تشدد سے متعلق الزامات برقرار رہے تو انہیں بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ عالمی سفارتی حلقے اس پیش رفت کو غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اقوام متحدہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔