انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کی آج شام میں اہم میٹنگ، گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ پھر پکڑے گا زور!

انڈیا بلاک میں شامل پارٹیاں جمعرات کی شام ایک ورچوئل میٹنگ کرنے والی ہیں۔ انتہائی اہم تصور کی جا رہی اس میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیاں ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاجی مظاہروں کی حکمت عملی طے کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گی۔ ذرائع کے حوالہ سے میڈیا میں آ رہی رپورٹس کے مطابق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اس میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ میٹنگ میں یکم نومبر کو دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی ریلی کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ میٹنگ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اس بات کی بحث جاری ہے کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن قانون کو جلد نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلا سکتی ہے۔ اس خصوصی اجلاس میں حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال، گزشتہ ہفتہ ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر جاری احتجاجی مظاہرے سپریم کورٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ 12 اکتوبر کو قومی راجدھانی میں اپنی طاقت کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے سرکردہ لیڈران نے کارکنوں کے ساتھ مل کر ’جمہوریت مارچ‘ نکالا۔ اس دوران انہوں نے سخت بیریکیڈنگ والے راستے سے مارچ کیا اور ووٹر لسٹ کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے خلاف ایک مشترکہ عرضی دائر کی، جس میں انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 13 اکتوبر کو اپنی رہائش گاہ پر انڈیا اتحاد کے لیڈران کو چائے پر مدعو کیا تھا۔ میٹنگ کے بعد اپوزیشن اتحاد نے احتجاج جاری رکھنے اور ’ووٹ چوری‘ کے خلاف اس لڑائی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ آئندہ کی میٹنگ میں ضروری لائحہ عمل پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اسی لیے آج کی میٹنگ پر سبھی کی نظریں مرکوز ہیں۔ ورچوئل ہونے والی اس میٹنگ میں مرکز کی مودی حکومت کو گھیرنے کے طریقوں پر بات ہو سکتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ گیانیش کمار کے خلاف مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھانے کی بھی تیاری ممکن ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں