کیپ ٹاؤن : جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ کورل ہارٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے صرف 20 ماہ کے دوران 371 کتابیں شائع کرکے نئی بحث چھیڑ دی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق دراصل کورل ہارٹ اس مصنفہ کا قلمی نام ہے جسے وہ اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
اے آئی کے ذریعے تیزی سے کتابیں تخلیق کرنے پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید، گالم گلوچ اور حتیٰ کہ جان سے مارنے کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
مصنفہ ہارٹ کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 14 سال تک شعبہ اشاعت سے وابستہ رہیں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے قبل بھی درجنوں کتابیں تحریر کرچکی تھیں۔ تاہم تقریباً 20 ماہ قبل انہوں نے کتابیں لکھنے کے عمل میں اے آئی کو شامل کیا اور مختلف ماڈلز کو سمجھنے اور کتاب تیار کرنے کے قابل ایک نظام وضع کرنے میں تقریباً تین ماہ لگائے۔
مصنفہ کے مطابق وہ مختلف کاموں کے لیے مختلف اے آئی ماڈلز استعمال کرتی ہیں۔ ان کے بقول چیٹ جی پی ٹی مکالمے لکھنے میں اچھا ہے لیکن نثر کے معاملے میں کمزور، جبکہ کلاؤڈ کہانی کی ساخت ترتیب دینے میں بہتر ہے۔ وہ بعض دیگر ماڈلز کو بھی مخصوص نوعیت کے مناظر اور تحریری کام کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
ہارٹ واضح کرتی ہیں کہ وہ محض اے آئی کو یہ حکم نہیں دیتیں کہ ’ایک کتاب لکھ دو‘ بلکہ پہلے خود کہانی کا بنیادی تصور، اسلوب، کرداروں کی تفصیلات اور ابواب کا خاکہ تیار کرتی ہیں، جس کے بعد ان کا بنایا ہوا نظام ان معلومات کی بنیاد پر کتاب کا مسودہ تیار کرتا ہے۔
ان کے مطابق جب انہوں نے اے آئی کے ذریعے لکھنا شروع کیا تو ایک وقت میں صرف ایک پیرا گراف تیار کیا جاسکتا تھا اور اس کے لیے کئی بار ہدایات دینا پڑتی تھیں، تاہم اب وہ ایک ہی سلسلے میں پوری کتاب کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیتی ہیں۔
مصنفہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران اے آئی ماڈلز میں نمایاں بہتری آئی ہے اور نثر، جملوں کی ساخت اور زبان کے معیار میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے۔
ہارٹ کے مطابق اے آئی سے تیار ہونے والا پہلا مسودہ عام طور پر حتمی شکل میں قابل اشاعت نہیں ہوتا۔ اسے پہلے اے آئی کے ذریعے کہانی کی ساخت، کرداروں اور پلاٹ سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایڈٹ کیا جاتا ہے۔
اس عمل میں کہانی کے کمزور حصوں، نامکمل کرداروں، نظر انداز ہونے والے پلاٹ اور تسلسل کی غلطیوں کو درست کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک انسانی پروف ریڈر مکمل متن کا جائزہ لیتا ہے، اے آئی سے پیدا ہونے والی نمایاں خامیوں کو دور کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق دوبارہ تحریر بھی کرتا ہے۔
ہارٹ کے مطابق ان کی 371 کتابوں میں بڑی تعداد رومانوی ناولوں پر مشتمل ہے اور بیشتر کتابیں مخصوص قارئین کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ ریسرچ کے بعد تیار کی جاتی ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈیجیٹل، پرنٹ اور آڈیو فارمیٹ میں 10 لاکھ سے زائد کتابیں فروخت کرچکی ہیں اور رواں سال اب تک ان کی آمدنی 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
ان کی ایک کتاب ایمازون کی ٹاپ 100 بیسٹ سیلرز فہرست میں بھی جگہ بنا چکی ہے۔ اب ہارٹ ایک ایسے ادارے کی سربراہی کررہی ہیں جہاں سیکڑوں افراد کو ان کے اے آئی کے ذریعے کتابیں تیار کرنے کے طریقہ کار کی تربیت دی جاچکی ہے، جبکہ وہ اے آئی مصنفین کے لیے
اوتھریدم نامی سافٹ ویئر بھی متعارف کرانے کی تیاری کررہی ہیں۔
اے آئی سے کتابیں تیار کرنے پر تنقید کے باوجود ہارٹ کا کہنا ہے کہ اصل معیار قارئین کا ردعمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کتاب ناقص ہو تو قارئین اسے واپس کردیتے ہیں، اس لیے کتابوں کی فروخت اس بات کا ایک اہم پیمانہ ہے کہ قارئین انہیں قبول کررہے ہیں یا نہیں۔
اے آئی کے استعمال پر جاری عالمی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے ہارٹ کا کہنا تھا کہ اگر کسی کتاب کو صرف اس لیے ناپسند کیا جائے کہ اس میں اے آئی استعمال ہوئی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل میں لوگ کتاب کو ناپسند کررہے ہیں یا مصنوعی ذہانت کو؟