دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے جلد اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ٹام باراک
ایران اور امریکا معاہدے کے قریب، آئندہ دو ہفتوں میں کشیدگی کم ہونے کی امید
دوحہ: ترکی میں امریکی سفیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران فوجی کشیدگی میں کمی کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
دوحہ میں سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹام باراک نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے جلد اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اب دونوں فریقوں کو کشیدگی میں وقفہ دینے اور صورتحال معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔
ٹام باراک نے سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قطر، پاکستان اور امریکا کے دیگر اتحادیوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی سفیر کے مطابق فوری طور پر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوسکتا ہے، تاہم عارضی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی سے مزید مذاکرات کے امکانات پیدا ہوں گے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر اور حکام فوجی کارروائی کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، تاہم اس وقت کوشش کی جارہی ہے کہ تمام سفارتی اور دیگر ممکنہ راستے اختیار کرکے فوجی تصادم سے بچا جاسکے۔