نیشنل کانفرنس میں کوئی الگ دھڑا نہیں، قیادت نے شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی: نذیر گریزی

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نذیر احمد گریز ی نے حکمران جماعت کے اندر الگ دھڑا بننے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی نے صرف اپنے مسائل اور تحفظات قیادت کے سامنے رکھنے کے لیے آپس میں ملاقات کی تھی، نہ کہ کوئی الگ گروپ تشکیل دینے کے لیے۔
جمعہ کے روز گپکار میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ دیگر پارٹی اراکین اسمبلی کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نذیر احمد گریزی نے کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
نذیر احمد گریز ی نے کہا کہ ’’ہم نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی ہیں اور جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو ہم اسے اپنی پارٹی قیادت کے سامنے رکھتے ہیں۔ چند روز قبل ہم ایک جگہ جمع ہوئے تھے، لیکن سوشل میڈیا پر اسے اس طرح پیش کیا گیا جیسے نیشنل کانفرنس سے کوئی الگ جماعت وجود میں آگئی ہو، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی گروپ نہیں تھا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران اراکین اسمبلی نے اپنے سیاسی اور دیگر مسائل براہِ راست ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سامنے رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے وزیر اعلیٰ اور فاروق صاحب کے سامنے بعض مسائل اٹھائے، جن پر انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ چاہے وہ سیاسی معاملات ہوں یا دیگر مسائل، کچھ کو فوری طور پر حل کیا جائے گا جبکہ باقی مسائل کا بتدریج ازالہ کیا جائے گا۔‘‘
واضح رہے کہ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے بعض اراکین اسمبلی میں ناراضگی اور اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس کے بعد پارٹی اراکین نے آپس میں مشاورت کی تھی۔ ان ملاقاتوں کے بعد پارٹی میں الگ دھڑا وجود میں آنے سے متعلق قیاس آرائیاں بھی شروع ہوگئی تھیں۔تاہم نذیر احمد گریز ی نے واضح کیا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد پارٹی قیادت کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اپنے تحفظات سے آگاہ کرکے انہیں پارٹی کے اندر ہی حل کرانا تھا۔انہوں نے کہا کہ تازہ ملاقات کے دوران اراکین اسمبلی کو اپنی شکایات براہِ راست قیادت کے سامنے رکھنے کا موقع ملا اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔نذیر ی احمد گریز کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی پارٹی قیادت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں اور اپنے مطالبات پارٹی کے اندر رہتے ہوئے ہی اٹھاتے رہیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں