امریکہ میں گینگسٹر ہیری باکسر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس گینگسٹر کا نام روہت شیٹی کے گھر کے باہر ہوئی فائرنگ میں ملوث ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد اس گینگسٹر کے نام سے بالی ووڈ کی اہم شخصیات کو دھمکی آمیز آڈیو پیغامات بھی بھیجے گئے تھے۔ ہیری باکسر لارنس بشنوئی گروہ سے وابستہ ہے۔ الزام ہے کہ وہ امریکہ میں بیٹھ کر گینگ کی سرگرمیاں چلا رہا تھا۔ اس کے خلاف قتل اور جبراً وصولی سمیت کئی سنگین مقدمات درج ہیں۔ امریکی ایجنسی ’آئی سی ای‘ نے اسے کیلیفورنیا سے حراست میں لیا ہے۔
ہیری باکسر سے قبل گینگسٹر ہمانشو بھاؤ اور نیرج فریدپوریا کو بھی امریکہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ دونوں بھی ہندوستان میں کئی مجرمانہ معاملوں میں مطلوب بتائے جاتے ہیں۔ بیرون ملک بیٹھ کر ہندوستان میں مجرمانہ سرگرمیاں چلانے والے گینگسٹروں کے خلاف ایجنسیاں کارروائی کر رہی ہیں۔ ہیری باکسر کی گرفتاری کو بھی اسی سلسلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے جوہو میں واقع گھر کے باہر یکم فروری 2026 کی دیر رات فائرنگ ہوئی تھی۔ حملہ آور نے شیٹی ٹاور کے باہر کئی راؤنڈ گولیاں چلائی تھیں۔ واردات کے وقت روہت شیٹی گھر میں ہی موجود تھے۔ حالانکہ اس واردات میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :
فائرنگ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی تھی۔ اس میں شبھم لونکر، آرزو بشنوئی، ہیری باکسر اور ہرمن سندھو نے حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پوسٹ میں روہت شیٹی کو دھمکی بھی دی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ انہیں پہلے بھی وارننگ دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ پوسٹ میں آئندہ اس سے بھی بڑی واردات انجام دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔ فائرنگ کے بعد ممبئی پولیس نے جانچ شروع کر دی تھی، اور کرائم برانچ بھی اس معاملے کی جانچ میں مصروف تھی۔ پولیس نے آس پاس کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی تھی۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ حملہ آور موٹر سائیکل سے آیا تھا۔ وہ پیدل چل کر شیٹی ٹاور تک پہنچا اور وہاں گولیاں چلانے کے بعد فرار ہوگیا۔ پولیس نے اس معاملے میں کئی ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ فروری 2026 میں روہت شیٹی اور رنویر سنگھ کو دھمکی آمیز آڈیو پیغامات بھیجے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ ان پیغامات میں دونوں کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی گئی تھی۔ پیغام بھیجنے والے نے اپنی شناخت ہیری باکسر بتائی تھی۔ ممبئی پولیس ان آڈیو پیغامات کی جانچ کر رہی تھی۔ پولیس یہ بھی پتہ لگا رہی تھی کہ کیا آواز اصلی ہے یا ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔