ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیر اعظم نے بینک کھاتوں سے رقم نکالنے پر ایف بی آر سے جواب مانگ لیا

اتھارٹیزکے مقررہ مدت میں ٹیکس ایگزمشن سرٹیفکیٹس جاری نہ کرنے اور ریفنڈز روکنے پر حکام کے طرز عمل سے متعلق بھی جواب دینے کی ہدایت۔ فوٹو : فائل

اتھارٹیزکے مقررہ مدت میں ٹیکس ایگزمشن سرٹیفکیٹس جاری نہ کرنے اور ریفنڈز روکنے پر حکام کے طرز عمل سے متعلق بھی جواب دینے کی ہدایت۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے ٹیکس دہندگان کے بینک اکائونٹس منجمد کرکے رقوم نکلوانے، مقررہ مدت میں ایگزمشن سرٹیفکیٹس جاری نہ کرنے اور ریفنڈز روکنے سے متعلق ایف بی آر حکام کے طرز عمل کے بارے میں جواب طلب کرلیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کی جانب سے لکھے جانے والے خط پر ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز سے جواب طلب کیا۔ دستاویز میں بتایا کہ پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کی طرف سے وزیراعظم کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیاکہ ٹیکس واجبات کا معاملہ ایپلٹ کمشنرز کے پاس اپیلز میں ہونے کے باوجود ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے بینک اکائونٹس منجمد کرنے کے بعد رقم نکلوالی جاتی ہے۔

اگرچہ چاروں صوبائی ہائی کورٹس طے شدہ قانونی اصول کے مطابق ایسا کرنے سے منع کرچکی ہیں اور یہ کہہ چکی ہیں کہ انصاف تک رسائی متاثرہ فریق کا بنیادی حق ہے، یہ بھی کہاگیاکہ ریونیو اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی ٹیکس دہندہ کو اس کے ذمے نکالی جانی والی ثالثی ٹیکس ڈیمانڈکی رقم جمع کرانے پر اس وقت تک دبائو نہیں ڈالا جائے گا جب تک کہ اس ٹیکس ڈیمانڈ کے آرڈر کی کسی غیرجانبدار فورم سے اسکروٹنی نہیں کرائی جاتی، اس کے باوجود محکمہ ٹیکس ڈیمانڈ آرڈرکی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کے بینک اکائونٹس منجمد کردیتاہے اور پھر زبردستی ٹیکس واجبات کی رقم نکلوالی جاتی ہے۔

ٹیکس اتھارٹیزکی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 148 اور 153کے تحت ٹیکس استثنیٰ سرٹیفکیٹس بھی مقررہ میعاد کے دوران جاری نہیں کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹیکس دہندگان کے بڑے پیمانے پر ریفنڈ کلیمز کے باوجود ایف بی آر حکام ٹیکس دہندگان سے کیش میں ٹیکس وصولی کرتے ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیاکہ ایف بی آرکی جانب سے ٹیکس دہندگان کو ریفنڈز بھی جاری نہیں کیے جارہے۔ یہاں تک کہ ان کیسز میں بھی ریفنڈز نہیں دیے جارہے جن میں ٹیکس اتھارٹیز نے وفاقی ٹیکس محتسب سے ادائیگی کا باقاعدہ وعدہ کیا تھا، اس سے ٹیکس دہندگان کا کیش فلو بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

خط میں پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم کو درخواست کی گئی تھی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بینک اکائونٹس منجمد کرکے رقم نکلوانے سے روکا جائے اور ٹیکس دہندگان کو سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

مذکورہ خط پر نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم آفس کی جانب سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خط لکھا گیا ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے ٹیکس دہندگان کے بینک اکائونٹس منجمد کرکے رقوم نکلوانے، مقررہ مدت میں ایگزمشن سرٹیفکیٹس جاری نہ کرنے اور ریفنڈز روکنے سے متعلق حکام کے طرز عمل کے بارے میں جواب طلب کرلیا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں