وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز کی شیلنگ اور اس کے زہریلے اثرات کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی تعریف کی۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیریوں کے ساتھ سول سوسائٹی کی مسلسل حمایت کی مضبوط بنیاد کی مظہر ہے’۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو نے وزیر اعظم کو ‘مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے ایمنسٹی کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا’۔
کومی نائیڈو نے وزیراعظم کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے کام سے بھی آگاہ کیا اور اس حوالے سے مسائل پر عالمی تنظیموں کی تجاویز پر عمل کرنے کی تجویز دی۔
کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی سے ملاقات

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ عمران خان کشمیر مشن پر امریکا آئے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق امریکا پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی فاروق کتھواری سے ملاقات کی اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس دوران انہوں نے فاروق کتھواری پر زور دیا کہ وہ اپنے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم، اس کے غیر قانونی تسلط اور انسانی حقوق کی پامالی اور اس کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں تاکہ نریندر مودی کی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوسکے۔
خیال رہے کہ فاروق کتھواری ایشیائی نژاد امریکیوں کے بارے میں امریکی صدر کے مشاورتی کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اس ملاقات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اس دوران فاروق کتھواری نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیر اسٹڈی گروپ کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
واضح رہے 5 اگست کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کو صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد کشمیر کو بھارت سے منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ بل پیش کردیا تھا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
مذکورہ اقدام سے قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جو تاحال برقرار ہے جبکہ اس دوران حریت رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو گرفتار یا نظربند کیا جاچکا ہے۔
اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔
اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
پاکستان متعدد مرتبہ خدشات کا اظہار کرچکا ہے کہ بھارتی اقدام کے بعد دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
عمران خان ’کشمیر مشن‘ پر امریکا آئے ہیں، ملیحہ لودھی
ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مشن کشمیر پر امریکا آئے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان اپنا دورہ سعودی عرب مکمل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز نیو یارک پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ امریکا ان کے اور پوری قوم کے لیے ‘کشمیر مشن‘ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا امریکا میں پیغام واضح ہوگا کہ ‘مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے لیے پُرامن حل تلاش کیا جائے‘۔
پاکستان کی مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کریں گے جو لاک ڈاؤن اور سفاکانہ قبضے کا شکار کشمیری مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کو عالمی برادری اور امریکی میڈیا میں توجہ حاصل ہوگئی ہے، وہ نیویارک میں میڈیا نشستوں میں بھی شرکت کریں گے۔
پاکستانی مندوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی کا پہلا دورہ ہے اور وہ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں جہاں نیویارک میں 21 سے 27 ستمبر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیراعظم عمران خان پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
دفتر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کو اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت پر پاکستانی موقف کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کریں گے‘۔
دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان عصر حاضر کے دیگر اہم امور پر عالمی دنیا کو اپنا موقف پیش کریں گے۔
اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ ’مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ تمام سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا‘۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے آئندہ چند روز میں اہم ملاقاتیں کریں گے جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ‘جنوبی ایشیا میں 2 جوہری قوت کے حامل پڑوسیوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے’۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کروں گا، اس کے علاوہ پاکستان کے وزرا اعظم سے ملاقات ہوگی’۔