حکومت سندھ کا کراچی میں پانی چوروں کے خلاف گرانڈ آپریشن کا فیصلہ
پانی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر سزائیں دلوائی جائیں گی۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ
حکومت سندھ نے کراچی میں پانی چوروں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور پانی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر سزائیں دلوائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ، کمشنر کراچی افتخار شیروانی ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اسداللہ خان اور پاک فوج اور رینجرز کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں کمشنر کراچی اور ایم ڈی واٹر بورڈ نے شہر کو فراہم ہونے والے پانی اور پانی چوری کے متعلق بریفنگ دی۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کے 2015 سے اب تک 194 غیرقانونی ہائیڈرنٹس مسمار کئے گئے ہیں انہونے مزید کہا کے 300 غیر قانونی کنیکشن ختم کر کے 300 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر داخل کی ہیں مگر مقدمات کی صحیح پیروی نا ہونے کے سبب ملزمان کو سزائیں نہیں ہو پائے۔ انہونے مزید کہا کے کراچی کے ضلع ویسٹ میں اس وقت 25 غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس ہیں۔
چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ واٹر بورڈ، پولیس اور رینجرز اہلکار کی مدد سے ایک ہفتہ میں تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کریں اور پانی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے صحیح سزائیں دلوائی جائے۔ انہونے مزید کہا کے کراچی کو فراہم ہونے والی کراچی ڈرین سے غیرقانونی پائیپ ہٹائیں جائیں اور اگر ضرورت ہو تو کراچی ڈرین کے آس پاس کے گاؤں کو واٹر بورڈ قانونی طریقے سے محض پینے کا پانی فراہم کرے۔ انہونے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے شہر کے مختلف اضلاع کو فراہم ہونے والے پانی کی مقدار اور لائین لاسس سے متعلق ایک سروی لیا جائے اور واٹر بورڈ اپنے پمپنگ اسٹیشن، پائیل لائین اور کینال پر پیٹرولنگ بڑھائے جب کے سروی اور پلیٹرولنگ کے لئے واٹر بورڈ کی مدد کے لئے رینجرز انتظامیہ کو لکھا جائے گا۔