برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) کورونا وائرس کی وبا کے خطرے کے پیش نظر حکام نے یونان میں پھنسے ہوئے سیکڑوں کم عمر مہاجرین بچوں کو جرمنی لانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ایسے 47 مہاجر بچوں کو جرمنی لایا گیا ہے جو تنہا یونان پہنچے تھے۔ جرمن وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایتھنز سے ایک پرواز کے ذریعے انہیں جرمن شہر ہنووور پہنچانے سے قبل ان کے کورونا ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ کم عمر مہاجرین کو 14 روز تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا، جس کے بعد انہیں مختلف شہروں میں بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا تھا کہ وہ 500 سے زائد کم عمر مہاجرین کو آیندہ چند ہفتوں کے دوران جرمنی لائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر یورپی ممالک سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ یونان کے مہاجر کیمپوں میں پھنسے مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دیں تاکہ انہیں کورونا وائرس کے خطرے سے بچایا جا سکے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن بچوں کو گزشتہ روز جرمنی لایا گیا ہے، ان کا تعلق افغانستان، شام اور اریٹیریا سے ہے۔ ان میں سے کئی بہن بھائی ہیں اور کئی کے اہل خانہ پہلے ہی جرمنی میں موجود تھے اور پیچھے رہ جانے والے اپنے بچوں کا انتظار کر رہے تھے۔ حال ہی میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے یونان میں موجود مہاجر کیمپوں کی صورت حال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں کی صورت حال انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ان بچوں کی روانگی سے قبل ایتھنز ائرپورٹ پر موجود یونانی وزیراعظم کا امید ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آیندہ ہفتوں کے دوران کم از کم 1500 ایسے بچوں کو یورپ کے مختلف ممالک بھیجا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
- بابا صدیقی قتل معاملہ: ’ممبئی پولیس کارروائی نہیں، صرف نمائش کر رہی‘، بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین کا سنگین الزام
- ’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوال
- پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت، سزا معطل
- چندہ ’شری رام‘ کے نام پر آیا تھا، حساب بھی دینا ہوگا اور جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، خاموشی نہیں جواب چاہیے: جے رام رمیش