ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مولانا ظفر علی خان کی برسی پر وزیرآباد میں تقریب

وزیر آباد اے ضمیر کاظمی

آج بطل حریت نامور شاعر شعلہ بیان مقرر اور بابائے صحافت کے نام سے پہچان رکھنے والے عظیم راہنما مولانا ظفر علی خان کی 66ویں برسی ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ مولانا ظفر علی خان کی تحریک پاکستان کے لیے خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے درج ہیں مولانا ظفر علی خان کی برسی کے حوالہ سے دیکھتے ہیں۔
بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی علمی ادبی اور ملی خدمات کا جہاں معترف ہے۔ انہوں نے اپنی خطابت صحافت اور شاعری کے ذریعہ تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا مولانا ظفر علی خان 19جنوری 1873کو وزیرآباد کے سرحدی گاؤں کوٹ مارتھ میں پیدا ہوے والد مولوی سراج الدین کی وفات کے بعد مولنا ظفر علی خان نے زمیندار اخبار کی ادارت سنبھالی اور اسوقت زمیندار اخبار کے ذریعہ تحریک پاکستان کو گرمایا جب برصغیر پاک و ہند میں ہندو اخبارات چھائے ہوے تھے مولنا ظفر علی خان نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی اور بی اے کا امتحان علی گڑھ یونیورسٹی سے پاس کیا۔
مولنا ظفر علی خان کے خطبات اور ان کا کلام عشق رسول ﷺ سے لبریز ہے۔زمیندار اخبار جو برصغیر کے مسلمانوں کا نمائندہ اخبار سمجھا جاتا تھا وزیرآباد کے علاقہ کرم آباد سے شائع ہوتا اور برصغیر کے طول وعرض میں پڑھا جاتا بابائے صحافت مولنا ظفر علی خان کی وفات 27نومبر 1956کو وزیرآباد کے قریبی گاؤں کرم آباد میں ہوئی اور وہیں ان کو دفن کیا گیا ہر سال 27نومبر کو ان کے مزار پر وزیرآباد کی صحافی تنظیمیں ان کی یاد میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں جس میں مقامی شعراء،علمی ادبی وسماجی شخصیات کے علاوہ قرب و جوار سے صحافی شرکت کرتے ہیں اور مولانا ظفر علی خان کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
بابائے صحافت مولنا ظفر علی خان کی شاعری ان کے خطبات اور انداز صحافت ہر دور کے صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہے وہ اپنی ملی خدمات اور نڈر صحافت کے باعث تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاوید نظر آئیں گے

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں