اسلام آباد: جعلی ادویات کے خلاف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 5 ادویات کو جعلی قرار دے دیا ہے اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے ملک بھر میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، ڈریپ نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیفم کیپسول 400 ملی گرام کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے جو مریضوں کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔
اسی طرح ایسفی کوف سیرپ 125 ملی لیٹر بھی جعلی ثابت ہوا ہے، جس کے استعمال سے نقصان ہوسکتا ہے اور ڈروفا-10 ٹیبلٹ اور ڈائیڈروکیر 10 ملی گرام کی گولیاں بھی غیر معیاری اور جعلی پائی گئی ہیں۔
ڈریپ کے مطابق ڈروپلکس 10 ملی گرام ٹیبلٹ کو بھی جعلی قرار دیا گیا ہے جس کے استعمال سے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ جعلی دواؤں کا استعمال مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
ڈرپک کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور اسپتال سپلائی چین میں آنے والی مشکوک دواؤں پر کڑی نظر رکھیں۔
ڈریپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ صرف مستند اور رجسٹرڈ فارمیسیز سے ہی دواؤں کی خریداری کریں اور اگر کسی مریض نے مشکوک دوا استعمال کی ہے تو فوری طور پر قریبی ڈاکٹر یا اسپتال سے رجوع کرے۔